کاروار 18 / اکتوبر (ایس او نیوز) محکمہ پولیس کی طرف سے عوام کو بار بار خبردار کیے جانے کے باوجود آن لائن دھوکہ اور سائبر کرائمس کے معاملوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس سلسلے میں اتر کنڑا کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ دو سال کے عرصے میں یہاں کے عوام نےآن لائن دھوکہ اور سائبر کرائمس کے راستے سے تقریباً 1.64 کروڑ روپئے گنوائے ہیں ۔
سائبر کرائمس میں روز افزوں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پولیس کے بیان کے مطابق اتر کنڑا میں دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے لوگوں نے سال 2022 سے زیادہ رقم 2023 میں گنوائی ہے ۔ ضلع میں او ٹی پی ، اے ٹی ایم کارڈ وغیرہ کے ذریعے دھوکہ دہی کے علاوہ نوکری دلانے ، تحفے بھیجنے ، لاٹری یا انعام جیتنے جیسی خبریں دے کر لوگوں کو بے وقوف بنانے اور ان سے رقم لوٹنے کے معاملے مسلسل پیش آ رہے ہیں ۔
سال 2022 میں ضلع کے سی ای این پولیس تھانے میں مختلف طریقوں سے دھوکہ دہی کے جتنے معاملے درج ہوئے تھے اس میں جملہ 43 لاکھ روپے لوٹے گئے تھے ۔ جبکہ 2023 کے اکتوبر مہینے تک فراڈ کے جو معاملے درج ہوئے ہیں اس میں لوگوں کو 1.21 کروڑ روپوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے ۔
ایک خاص بات یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ سائبر فراڈ کا شکار ہونے والوں میں پڑھے لکھے اور نوجوانوں کی اکثریت ہے ۔ سی ای این پولیس تھانے کے علاوہ دیگر پولیس تھانوں میں بھی بعض معاملے درج ہوئے ہیں اور ان سب کو ملایا جائے تو یہ رقم 2 کروڑ روپوں سے آگے نکل جاتی ہے ۔
سائبر کرائم کے ذریعے دھوکہ دہی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی جئے کمار کہتے ہیں کہ اس کا شکار ہونے والوں میں ان پڑھ لوگوں سے زیادہ پڑھے لکھے افراد کی تعداد زیادہ ہے ۔ سائبر کرائم انجام دینے والے شکاری اس وقت تک کامیاب ہو ہی نہیں سکتے جبکہ خود شکار ان کا تعاون نہ کرے ۔جئے کمار نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے موبائل پر موصول ہونے والے او ٹی پی شیئر نہ کریں، لِنک پر کلک نہ کریں تو جرم انجام دینا ممکن ہی نہیں ہے ۔ اکثر اوقات عوام ہی غیر مستند ایپ کو ڈاون لوڈ کرتے ہیں، جس سے ہماری تمام معلومات فریب کاروں تک پہنچ سکتی ہے ۔ نوکری دلانے کے بہانے بھی لوٹا جا رہا ہے ۔ فیس بک پر انجان لوگوں سے دوستی کرنا بھی اس طرح کے جرائم کا راستہ کھول دیتا ہے ۔
سی ای این پولیس تھانے کے انسپکٹر آنند مورتی کہتے ہیں کہ ایسے معاملوں سے بچنے کے لئے پیشگی احتیاط ضروری ہوتی ہے ۔ اگر کسی بھی قسم کا فراڈ ہوتا ہے تو فوری طور پر 1930 نمبر پر کال کرکے شکایت درج کروانی چاہیے ۔ اس کے بعد سائبر کرائم پولیس والے وہاٹس ایپ کے ذریعے بینک اسٹیٹمنٹ اور آدھار کارڈ حاصل کرتے ہیں ۔ اس کارروائی کے بعد دھوکے سے نکالی گئی رقم دوسرے بینک کھاتے میں جمع ہونے سے روکنے کی کارروائی کی جاتی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ ہر کسی کے لئے پولیس تھانے پہنچ کر شکایت درج کروانا ممکن نہیں ہوتا ۔ ایسے لوگ این سی سی آر پوٹل کے توسط سے آن لائن ہی شکایت درج کر سکتے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 پر فون کرکے بھی شکایت درج کرائی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی مالی فراڈ کا شکار ہو جاتا ہے، تو اس نمبر پر ضروری تفصیلات کے ساتھ کال کر سکتے ہیں، جیسے کہ ا نام، رابطے کی معلومات، اکاؤنٹ نمبر کے ساتھ اُس اکاؤنٹ کی تفصیلات جس میں رقم منتقل کی گئی تھی۔ پولس کے اس آفسر نے بتایا کہ فراڈ ہونے کی صورت میں ہر کسی کو سی ای این پولیس تھانے میں پہنچ کر ہی شکایت درج کروانا ضروری نہیں ہے ۔ مقامی پولیس تھانے میں جا کر بھی شکایت درج کروائی جا سکتی ہے ۔